دمقراط
دمقراط 460 قبل مسیح میں یونان کے
شہر آب درہ میں پیدا ہوئے ۔دمقراط کا باپ ایک بہت بڑا
جاگیردار اور دولتمند شخص تھا لیکن دمقراط کو جاگیروں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔والد کی انتقال
کے
بعد اس نے ساری زمینین اور جاگیریں
اپنے بھائیوں میں تقسیم کی اور خود نقد رقم لے کر حصول علم
کےلئے طویل سیاحت پر روانہ
ہوگیا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میرے مُلک میں کوئی شخص مجھ سے بڑا سیاح
نہیں ہے ۔اسکا یہ دعویٰ بھی عین
صداقت پر مبنی تھا ۔مصر سے ہندوستان تک کوئی ایسا مُلک نہ تھا
جہاں اس کا قدم نہ پہنچے ہوں۔ جب طویل سیاحت کے بعد اپنے آبائی وطن آب درہ میں واپس آیا تو
وہ ایک بوڑھا مفکر تھا اسکے ہم وطن اس کو مجنوں اور دیوانہ سمجھتے
تھے۔کیونکہ اس دور میں آب درہ
کے لوگ فلسفہ کو بیکار شے سمجھتے
تھے۔ دمقراط کے اہل و احباب بھی اس کو زہنی مریض سمجھتے تھے۔
اس زمانے میں یونان کا مشہور طبیب
بقرا ط زندہ تھا ۔دمقراط کے احباب نے بقراط کو بلایا اور اسے
دمقراط کے دماغی علاج پر مامور کیا
۔ بُقراط آب درہ میں دمقراط کے علاج کے لئے آئے تھے لیکن
جب واپس گیا تو اس کی حیثیت ایک
عقیدت مند کی تھی جو دمقراط کے علم کا معترف ہو۔اس نے
آب درہ کے لوگوں سے کہا کہ جو
دمقراط کو دیونہ سمجھتا ہے اسے خود اپنے دماغ کا علاج کروانا
چاہئے۔ دمقراط کو جس شے نے نام اور
سائنس دانوں کی صف میں جگہ دی وہ اس کا ایٹم کا نظریہ
ہے۔ موجودہ دور میں جو تحقیقات ایٹم پر ہورہی ہے اور جس کے حیرت انگیز
نتائج ایک عالم کو
مبہوت کیے ہوئے ہیں اس تمام
تحقیقات کی داغ بیل آج سے کئی برسوں پہلے دمقراط کے ہاتھوں پڑ
چکی تھی جس نے دنیا کو پہلی بار
ایٹم سے روشناس کیا تھا۔ایٹم کا نام دمقراط
ہی کا وضع کردہ ہے۔
یونانی زبان میں ٹوم تقسیم کرنے کو کہتے ہیں جس طرح ہندی میں اٹل کے معنی نہ ٹلنے کے ہیں اسی
طرح یونانی زبان میں ایٹم کے معنی
نہ تقسیم ہونے والے کے ہیں۔ دمقراط کا نظریہ یہ تھا کہ دنیا کی ہر
شے نہایت چھوٹے چھوٹے نا قابل
تقسیم ذروں ،یعنی ایٹم سے بنی ہے۔اسی نظریے کو انیسویں
صدی میں جان ڈالٹن نے وضاحت سے پیش
کیا تھا اور جدید کیمیا کی بنیاد پڑی تھی۔ دمقراط کے
نظریے کے مطابق ہر ایٹم کا سائز
ایک ہوتا ہے وہ اتنا کم ہوتا ہے کہ
ایٹم انکھوں کو دیکھائی نہیں دے
سکتا۔ ان کے خیال میں انسان اور
دوسرے جان داورں کی روح بھی ایٹموں کی بنی ہوتی ہے اور روح
کے ایٹم باقی تمام چیزوں کی ایٹم
سے چھوٹے اور ہلکےہوتے ہیں۔کائنات میں صرف ایٹم ہی ایٹم
ہیں۔ایٹم کے اردگرد جو جگہ رہ جاتی
ہے وہاں کوئی شے نہیں ہے اور اس لئےوہ مکمل ایک خلا ہے،
دمقراط کی یہ خیالات جدید تحقیقات
سے اتنے قریب ہیں کہ ان سے اس عظیم مفکر
کی قوت فکر کا
اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ایسے دور
میں جہاں کسی قسم کی مشاہدے اور تجربے کا
کچھ سازو سامان نہ تھا
اس نے صرف اپنی قوت فکر سے ایٹم کے
وجود کو معلوم کیا،جس کی تصدیق جدید دنیا میں تجربے اور
مشاہدے سے ہوئی۔اس نے ، نیند اور
موت کے بارے میں بھی ایک نطریہ پیش کیا ۔نیند اور موت
کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ
انسانی بدن میں روح کے بعض ایٹم نکل جاتے
ہیں تو انسان پر نیند کی
کیفیت طاری ہوجاتی ہے اس حالت میں
بعض ایٹم ان سے خارج شدہ ایٹموں کو واپس لانے میں
کوشان رہتے ہیں ،جونہی یہ ایٹم
واپس آتے ہیں تو انسا ن جاگ اُٹھتا ہے موت
کے بارے میں ان کا
خیال تھا کہ جب روح کے تمام ایٹم
بدن سے نکل جاتے ہیں تو اس کی موت ہوجاتی ہے اس حالت
میں چوں کہ بدن میں روح کے کوئی
ایٹم باقی نہیں ہوتے جو خارج شدہ ایٹموں کو واپس لا سکے اس
لئے مرنے کے بعد انسان زندہ نہیں
ہو سکتا۔دمقراط جب460 ق،م میں پیدا ہوا تو
اسکا باپ ایک
امیر شخص تھا جسے دنیا میں کسی شے کوئی کمی نہ تھی لیکن جب
بانوے سال کی عمر پاکر فوت ہوا تو
تنگدستی کے سوا اس کے پاس کچھ نہ
تھا لیکن اس حالت میں بھی وہ ان لوگوں پر
تمسخر اور حقارت کی ہنسی ہنستا تھا جو دولت ہی کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حوالہ ،نام ور مسلم سائنسدان صفہ
نمبر 27
0 تبصرے