غزل۔۔۔علامہ اقبال
گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ،قلب و نظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں ،حن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
تو ہے محیط بے کراں ، میں ہوں ذراسی آبجو
یا مجھےہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گُہر کی آبرو
میں خزف تو تُو مجھے گوہر شاہوار کر
نغمہ، نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے،اب میرا انتظار کر
روز حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر
0 تبصرے