کچھ قدم چلنے کے بعد ،اس جگہ پہنچا جہاں لوگ نماز جنازہ کے لئے جمع تھے۔

 کچھ قدم چلنے کے بعد ،اس جگہ پہنچا جہاں لوگ نماز جنازہ کے لئے جمع تھے۔ لیکن میں آگے نہیں بڑھا اور

 چہرہ دیکھنے  کی بھی کوشش نہیں کی ۔ کیو نکہ یہ وہی چہرا تھا  جو میں کئی سالوں سے دیکھ رہا تھا ۔یقینا  ہر ایک نماز

 جنازہ پڑھنے کے لئے قطار میں کھڑےتھے۔ کسی کا انتظار ہو رہا تھا ؟ پھر ایک بیٹی آتی دیکھائی دی جو اپنے بابا کو

 آخری بار دیکھنے آئی تھی اور میں اس کی طرف نہیں دیکھا کیونکہ میں جانتا ہوں باپ کی موت پر جو حال بیٹی کا

 ہوتا ہے وہ حال نہ بیٹے کا ہوتا ہے نہ کسی عزیز کا۔ جب بھی میں یہ سوچتا ہوں کہ ایک دن میں نے بھی مرنا

 ہے میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ میری بیٹی کا کیا حال ہوگا تب میں مرنا نہیں چاہتا ہوں وہ جتنا روئےگی مجھ سے

 برداشت نہیں ہوگا ۔۔ صرف اس لئے یہ دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ تو نے جب مجھے مارنا ہو تو صرف ایک دن کی 

 مہلت دینا اس دن نہ مارنا جس دن میرے نصیب میں لکھا ہے اسے اگلے دن مارنا تاکہ میری بیٹی کم ازکم ایک  اور دن تو نہ روئے۔

دنیا کو سمجھاوُنا ۔۔بابا کہ بیٹیاں بوجہ نہیں ہوتی۔